اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یمن میں جاری سعودی جارحیت کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گرفتھیس سعودی عرب سے یمن پہنچے اور فریقین کے میدان جنگ یعنی الحدیدہ میں ڈیرے ڈال دیئے جہاں حوثی قبائل اور سعودی اتحادی افواج کے نمائندوں نے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی۔
گزشتہ برس دسمبر میں بھی اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی صدارت میں فریقین کے درمیان سویڈن میں ایک معاہدہ طے پایا تھا تاہم سعودی عرب کی وعدہ خلافیوں اور جنگ کی خلاف ورزی کے باعث اس پرعمل نہیں کیا جا سکا تھا۔
یاد رہے کہ الحدیدہ کی بندرگاہ حوثی قبائل کے پاس ہے جسے واگزار کرانے کے لیے سعودی اتحادی افواج نے اس علاقے پر تابڑ توڑ حملے کیے اور فریقین کے درمیان گھمسان کی جنگ میں زیادہ تر معصوم شہری اپنی جانوں سے گئے اور ہزاروں بے گھر ہوگئے۔ لیکن اس کے باوجود سعودی اتحادی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوئے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔
یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے ۔
سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کردیا ہے لیکن اس کے باوجود سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔
/129
16 جولائی 2019 - 05:38
News ID: 961648
یمن میں سعودی جارحیت کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مشن کے سربراہ کی موجودگی میں حوثی قبائل اور سعودی اتحادی افواج کے نمائندوں کے درمیان الحدیدہ میں پہلی ملاقات ہوئی ہے۔